زیارت میں داخل ہوتے ہی سرد ہواؤں نے ہمارا استقبال کیا۔ راستے میں اتنی رش کش تھی کہ جیسے زیارت میں کوئی میلہ ہونے جا رہا ہے۔ پاکستان بھر سے سیاحوں نے زیارت کا رُخ کیا تھا کیونکہ اس سیزن میں برف صرف زیارت میں پڑی تھی۔ یہاں آنے کی دوسری وجہ جو سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے وہ یہاں کے لوگوں کا روایتی انداز اور سادگی ہے۔ یہاں بہت کم ایسے واقعات ہوئے ہیں کہ کبھی کسی سیاح کو بے جا تنگ کیا گیا ہے یا اسے لوٹا گیا ہے، البتہ مری والے اس سلسلے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔
سیاحوں کی گاڑیاں دیکھ کر ان کے سٹینڈر کا پتہ چلتا تھا۔ کچھ بڑی گاڑیوں میں گھوم رہے تھے تو کچھ ”مہران الٹو ” میں ایسے بیٹھے سفر کر رہے تھے جیسے مرغی کے ڈربوں ٹھونسے ہوئے ہوں۔ کچھ منچلے نوجوان جو سٹوڈنس نظر آتے تھے ویگنوں میں سفر کر رہے تھے۔
راستے میں ہم ایک مسجد کے پاس رُکے، ساتھیوں نے نماز پڑی اور میں نے کچھ تصاویر کھینچے۔ مگر نوجوانوں کا ایک گروہ جو یہاں رُکا تھا وہ اتنی تصویریں لے رہے تھے کہ لگتا تھا یہیں سے اپنا میموری فُل کرکے جائیں۔ تصویروں کا نشہ بھی عجیب نشہ ہے۔ کیمرے کی ایجاد نے قدرتی مناظر کی اہمیت کو سمجھو ختم کر ڈالا ہے۔ جہاں دل کرے، جیسے دل کرے کسی بھی منظر کو کیمرے میں بند کر لیا جاتا ہے۔ ادھر تصویر کیمرے میں بند ہوجاتی ہے اور اُدھر دل سے اُتر جاتی ہے۔
دوپہر کو ہم ایک ڈیم کے پاس رُکے۔ کھانا پکانے کے لئے چولھا جلایا۔ پانی اتنا ٹھنڈا تھا کہ ہاتھ جم گئے۔ خیر شروعات تو ہم نے کر لی مگر کھانا پکاتے پکاتے اتنا ٹائم لگا کہ سورج بھی ہم سے بیزار ہوکر برف پوش پہاڑوں سے پھسلتا پھسلتا اپنا رختِ سفر باندھنے لگی۔ یہاں پہ کھانا پکانے کے تجربہ انتہائی خراب رہا۔ اونچائی کی وجہ سے ایٹموسپیئرک پریشر کم ہوتا ہے اور پانی بھی بہت گاڑھا ہے اس لئے اگر کبھی زیارت جانا ہوا تو ہوٹل میں کھانا کھا لیں ورنہ آپ کہیں بھی گھوم پِھر نہیں سکتے، کھانا بناتے رہ جاؤگے۔
کھانے کے بعد رات ہوگئی۔ رات کا منظر بھی کافی دلکش تھا۔ سٹریٹ لائیٹس کی روشنی جب پہاڑوں کے دامن پہ پڑی برف پہ پڑتی تھی تو ایسا منظر پیش کرتی جیسے کوئی سیاہ فارم اپنی گوری محبوبہ کو بانہوں میں لے کر آرام سے محوِ خواب ہے۔
رات ہوتے ہی سرد ہواؤں نے ایسا حملہ کیا کہ تُربَت کی جون و جولائی کی گرمی ہمیں اس سے بھلی معلوم ہو رہی تھی۔ مگر بھلا ہو ان دوستوں کا جنہوں نے پہلے سے ہمارے لئے ایک ریسٹ ہاؤس کا بندوبست کیا تھا۔ زیارت میں برف باری کے سیزن میں اچھے ریسٹ ہاؤس ملنا بہت مشکل ہے، اگر مل بھی جائے تو ”ماسٹروں“ کی بس سے باہر ہے۔ ریسٹ ہاؤس میں داخل ہوتے ہی کچھ چین کی سانس لی۔ سلینڈر کا بندوبست کیا گیا، ہیٹر کے کنارے ہم ایسے بیٹھ گئے جیسے برسوں کی بھوکی گدھوں کو اچانک سے کوئی مردہ شے نظر آئے۔ ہیٹر بھی اس سردی کا کوئی خاص مداوا نہ کرسکی۔ ہمارے پاس جو بھی تھا ہم نے پہن رکھا تھا، سویٹر، کوٹ، دستانے، جرابیں وغیرہ، البتہ جوتے اس لئے اُتار دیئے تاکہ کمبل خراب نہ ہوں۔ سردی کی شدّت کا اندازہ آپ اس بات سے کرسکتے ہیں کہ باتھ روم کے اندر پانی جم گیا تھا تو انسان کیا چیز ہے۔
ایسی سردی میں نیند ویسے بھی نہیں آتی، تو وقت گزارنے کے لئے کبھی ہم لڈّو کھیلتے تو کبھی گانے لگا کر ناچتے، آخر ہم تھک گئے۔ سونے کی کوشش کی، ایک کمبل کے ساتھ ایسے موسم میں سونا بھی بڑی بات ہے۔ زندگی میں پہلی بار میں کوٹ، جرابیں اور دستانے پہن کر سویا تھا۔
صبح اٹھتے ہی وادیِ زیارت کی سیر کو نکلے۔ صبح کہاں تھی، اٹھتے اُٹھتے دوپہر ہوچکی تھی۔ بالوں پہ بس اتنا پانی لگایا کہ کھنگی کرسکیں۔ سب سے پہلے ہم زیارت ریذیڈینسی کے ایریا میں گئے جو دوسروں ایریاز کی نسبت صاف ستھرا ہے۔
یہاں پہ کافی برف پڑی تھی۔ غضب یہ کہ اس بیکار جگہ کو دیکھنے کے لئے بھی ہمیں پچاس پچاس روپے ادا کرنے پڑے۔ دوستوں نے جوتے اتارے اور ریذیڈینسی کے اندر گئے، میں باہر کے نظاروں سے محفوظ ہوتا رہا۔ کیونکہ جناح کی رہائش گاہ دیکھنے کے لئے جوتے نکالنے کی تکلف کون کر سکتا ہے۔ جس بندے نے پوری زندگی کوئی ڈھنگ کا کام نہیں کیا، جو دھوکے بازی سے ہمارا پورا وطن کھا گیا اور پھر مرنے کے لئے بھی اسی وطن کا انتخاب کیا تو اس کے لئے ہمارے دل میں پسندیدگی کے جذبات ابھریں یہ ممکن ہی نہیں۔ باہر ایک خوبصور جوڑا ویڈیو کال پہ اپنے کسی عزیز سے باتیں کر رہے تھے۔ لہجے سے پنجابی معلوم ہوتے تھے۔ یہاں آکر اتنا خوش تھے جیسے شدّاد کے جنّت کی سیر کو آئے ہیں۔ اور خوش کیوں نہ ہوں پنجاب کی گرمی اور گنجان شہروں میں پھلنے والوں کو ایسے نظارے کہاں نصیب ہوتے ہیں۔ خیر سیر کو تو آئے تھے مگر کال پہ یہ بھی بتا رہے تھے کہ یہاں کے لوگ بہت اچھے ہیں، ہمیں مفت میں ڈرایا گیا ہے کہ یہاں انڈیا کے جاسوس ہیں پتہ نہیں کیا ہیں جو پنجابیوں کو مارتے ہیں۔ میں دل ہی دل میں ہنس رہا تھا کہ ان بیوقوفوں کو دیکھ لیں ایک تو ہماری سرزمین پہ گھوم رہے ہیں اوپر سے ہمیں پتہ نہیں کیا کیا کہہ رہے ہیں۔

No comments:
Post a Comment