جہاں کہیں بھی زیارت کا ذکر آئے تو ہمارا دھیان ”زیارت شریف“ (تُربَت میں موجود کوہِ مُراد) کی طرف جاتا ہے۔ زیارت شریف سے ایسی وابستگی ہے کہ یہ نام سنتے ہی دل کو ٹھنڈک پہنچتی ہے۔
خیر ہم بات کر رہے ہیں بلوچستان کے ضلع زیارت کی۔ جن لوگوں نے یہ خوبصورت وادی نہیں دیکھا ہے اور اس کے بارے میں صرف پڑھا ہے تو ان کی ضرور خواہش ہوگی کہ اس حسین وادی کی ”زیارت“ کریں۔ ہم نے بھی ایسے ہی بچپن میں کتابوں میں پڑھا تھا کہ زیارت ایک خوبصورت وادی ہے۔ جہاں پہ جناح ریذیڈنسی ہے، وغیرہ وغیرہ۔ پھر 2014 میں تُربَت پبلک لائبریری میں ایک کتاب نظر آئی جس کی ٹائیٹل پیج پہ لکھا تھا” وادیِ زیارت“۔ مصنف کوئی پشتون تھا جو زیارت کا رہائشی معلوم ہوتا تھا۔ میں نے جھٹ سے وہ کتاب اُٹھا لی اور دو دنوں تک لائبریری میں بیٹھ کر یہ کتاب پڑھ لی۔ اس کتاب سے ایسی شناسائی ہوگئی کہ اس میں موجود ہر منظر میں مجھے ”بلیدہ“ نظر آتا۔ میں نے لائبریرین سے درخواست کی اور کتاب کہ فوٹو کاپی حاصل کر لی۔ میرا ارداہ یہی تھا کہ وادیِ بلیدہ پہ کبھی ایسی کتاب لکھوں، وہ الگ بات ہے کہ اب تک یہ خواہش بس خواہش ہی رہ گئی ہے۔
تو زیارت کے بارے میں جتنا جان گیا اسے دیکھنے کی خواہش اتنی ہی شدّت اختیار کرتی گئی۔
2017 میں پہلی بار اپریل کے مہینے میں ”الہجرہ ریذیڈنشل سکول اینڈ کالج زیارت“ کی طرف سے ایک پروگرام کے لئے ہمیں مدعو کیا گیا۔ ہم حاضر ہوگئے۔ شام تک پروگرام جاری رہا، اس کے بعد ہم بس ایک دو پوائنٹس پہ گئے۔ تب تک اندھیرے نے اپنے پَر پھیلا دیئے اور رات تمام نظاروں کو کھاگئی۔ اگلی صبح سویرے ہم واپس کوئٹہ روانہ ہوگئے۔ یہ سفر ایک خواب کی طرح گزرا۔
ماہ و سال کیسے گزرے پتہ ہی نہیں چلا کہ سترہ کا ہندسہ پچّیس میں بدل گیا۔ نئے دوست بنتے گئے، پرانے ”آشنا“ وقت کی ضرورتوں کے نظر ہوتے گئے۔ اِدھر ہم تھے کہ اپنی طبعیت سے مجبور، سیاحت کے شوقین، دنیا داری سے بے نیاز، اپنی دنیا میں مگن۔ تو 2025 میں پھر دوستوں کے ساتھ منصوبہ تیار کیا کہ اس بار زیارت دیکھنے تب چلیں گے جب وہ اپنی جوبن پہ ہو، تو جنوری کا مہینہ بہترین آپشن تھا۔ زیارت میں برف پڑی تھی اور پورا وادی سفید چادر اوڑھ کر خوابیدہ ہوگئی تھی۔ ہم پانچ دوستوں نے رختِ سفر باندھ لیا، اپنی گاڑی لی اور سفر کے تمام لوازمات کا بندوبست کر کے پشین سے زیارت روانہ ہوگئے۔ سنگلاخ پہاڑوں کے درمیان تنگ و پیچ راستوں سے گزرتے، یخ بستہ ہواؤں کے تپھیڑوں کو سہتے سہتے ہم وادیِ زیارت میں داخل ہوگئے۔ سبز آسمان پہ سفید بادلوں کی جوڑ توڑ ایک خوبصورت منظر پیش کر رہا تھا۔ دُور پہاڑوں کی چوٹیوں پہ پڑی برف پہ جب نظر پڑی تو جیسے ہماری تھکاوٹ دور ہوگئی اور میں نظاروں میں کھو کر دشت کے کسی ویران گاؤں میں پہنچ گیا جہاں وہ ”ماہ پیکر“ رہتی ہے جس کی رنگت ان برف پوش پہاڑوں سے ملتی ہے۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

No comments:
Post a Comment