پاکستان میں دو طبقے ایسے ہیں جن کے پاس نہ اختیارات ہیں اور نہ ہی کچھ کر سکتے ہیں مگر ان کی خاموشی اور بد دیانتی کا خمیازہ ”بلوچ قوم “ بھگت رہی ہے۔ یہ دونوں طبقے سیاستدان اور میڈیا پرسنز ہیں۔ اس ملک میں طاقت کا منبع کہاں ہے وہ تو سب جانتے ہیں مگر ان دو طبقات کی بد دیانتی اور غیر سنجیدگی کا اندازہ آپ حالیہ واقعات سے لگا سکتے ہیں۔
امریکہ سے ایک خاتون آتی ہے، ایک ایسی خاتون جس کا نہ کوئی اتا ہے نہ پتہ لیکن یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ کراچی سے ایک نوجوان نے اسے اپنی محبت میں پھنسا کر شادی کا جھانسہ دیا ہے اور اسے پاکستان بُلایا ہے۔ اب یہ کہانی کس حد تک سچ ہے، یہ وہی عورت اور لڑکا ہی بتا سکتے ہیں۔ آپ کوئی بھی چینل دیکھ لیں یا کسی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پہ جائیں اسی خاتون کے علاوہ اور کوئی موضوع ہی نہیں ہے۔ جیسے اس ملک کے تمام مسائل اب حل ہوچکے ہیں اور یہی ایک مسئلہ رہتا ہے جسے حل کرنا سب اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔
پاکستانی میڈیا کی منافقت دیکھ لیں کہ ایک امریکی عورت کو اتنا کوریج دی رہی ہے جیسے اس ایک عورت سے اس ملک کی قسمت بدلنے والی ہے یا اس کو واپس کرنے سے ملکی سلامتی داؤ پہ لگی ہو۔ جبکہ دوسری طرف ہزاروں لاپتہ بلوچ نوجوانوں کی بازیابی کے لئے دالبندین میں ہونے والی ”راجی مچّی“ کو نہ کوئی کوریج ملتا ہے اور نہ ہی مین سٹریم میڈیا میں کوئی واضح رپورٹ نظر آتی ہے۔
مین سٹریم میڈیا سے تو خیر کوئی گلہ بھی نہیں کیونکہ وہ تو یک انڈسٹری ہے اور انڈسٹری ہمیشہ کنٹرولڈ ہوتی ہے۔ وہ صرف کیپیٹلسٹ طبقے کے مفادات کا دفاع کر رہی ہے۔ مگر سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس جن کے فالورز ہزاروں میں ہیں وہ بھی کبھی اس عورت کی ویڈیوز شیئر کرنے میں مصروف ہیں تو کبھی اسے ٹرول کرنے پہ لگے ہیں۔
ایک عورت کا مسئلہ ذاتی نوعیت کا ہے۔ یہ دو افراد کا معاملہ ہے اسے سلجھانے کے لئے نہ ہم کوئی کردار ادا کر سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ۔ جبکہ دوسری طرف پوری بلوچ قوم پہ ریاستی ظلم و بربریت کا نہ تھمنے والا سلسلہ جاری ہے جس کے بارے میں لکھنے یا کچھ کہنے کی باری آتی ہے تو سب کو سانپ سونگھ جاتی ہے۔
بلوچ لاپتہ افراد کے کیس کے معاملے میں سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک پچاسی سالہ بزرگ ریٹائرڈ جسسٹس فقیر محمد کھوکھر کو لاپتہ افراد کمیشن کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا جو پچھلے دنوں انتقال کر گئے۔ اس غیر سنجیدہ رویّے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اس ملک میں بلوچ قوم کی کیا حیثیت ہے۔
جہاں ایک خاتون پوری میڈیا پہ چھا جاتی ہے اور دوسری طرف ایک مظلوم قوم پہ جاری ظلم و بربریت پہ کوئی رپورٹ نظر نہیں آتی یہ ”مملکتِ خداداد“ ہی ہو سکتا ہے۔

No comments:
Post a Comment