ایک دوست نے پوسٹ کیا تھا کہ ایک گروہ ”گْوادر کتاب میلے“ کا بائیکاٹ کیوں کر رہا ہے؟ بلکہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ ہم اپنے ہی ادبی اور سیاسی سرکلز میں ”لابیئنگ“ کا بائیکاٹ کرتے، کیونکہ اس میلے سے اِتنا نقصان نہیں ہو رہا جتنا اس لابیئنگ سے ہو رہا ہے۔ اس میلے میں سیشنز میں اکثر پینلسٹ ہمارے اپنے ہی لوگ ہیں، ہمارے ادیب و دانشور ہیں، ہماری ہی سماجی و سیاسی سشخصیات ہیں، تو پھر بائیکاٹ کس کا اور کیونکر کی جائے؟
کتابوں کے سٹالز لگے ہیں، قارئین کے لئے سنہری موقع ہے کہ اپنی پسندیدہ کتابیں لیں اور چلتا بنیں۔
بھئی ہم نے کب کہا ہے کہ کتب میلے کا بائیکاٹ کریں؟ ہم تو اُس بیانیے کے خلاف ہیں جو بلوچ اور بلوچستان کے متعلق پاکستانی دانشوروں کی ذہنیت کی پیداوار ہے۔ بلوچ و بلوچستان میں اگر کوئی ادبی میلہ یا کلچرل میلہ ہونے جارہا ہے تو اس میں خالصتاََ بلوچیت کے رنگ ہوں۔ اگر کوئی دانشور باہر سے آرہا ہے ، وہ ہمارے معاملات کی سمجھ بوجھ رکھتا ہے، یہاں کے زمینی حقائق سے واقف ہے اور سچ بولنے کی ہمّت رکھتا ہے تو ہمیں ایسے دانشوروں کا استقبال کرنا چاہیے۔ مگر ایسا ہے نہیں۔
آج جب مظہر عباس (ایک معروفی پاکستانی جرنسلٹ جس کے نام سے آپ سب واقف ہونگے) کی کتاب ”A journy throug chaos“ کی تقریب رونمائی ہوئی تو انہوں نے ڈکھے چھپے الفاظ میں کچھ ایسی باتیں کہیں جس سے بلوچ اور بلوچستان کے متعلق پاکستانی صافیوں اور دانشوروں کی ذہنیت واضح ہوگئی۔
پہلی بات جو انہوں نے کہی وہ یہ تھی کہ جب ہم کراچی سے آرہے تھے تو ہم نے دیکھا یہ پورا راستہ ویران تھا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس ہائی وے کے کنارے آبادی ہوتی، یہاں کالجز ہوتے، یونیورسٹیز ہوتیں، رونقیں ہوتیں تب بلوچستان خوبصورت نظر آتا۔ اب بات یہ ہے کہ سڑکیں ویران نظر آتی ہیں مگر ان کے کنارے لگے چیک پوسٹس نظر نہیں آتے، پھر بات کالجز اور یونیورسٹیز کی ہو تو بلوچستان میں جتنے ہیں وہی کافی ہیں۔ یہاں کے تعلیمی اداروں میں جو پڑھایا جاتا ہے وہ ہمارے سامنے ہے۔ نہ یہاں کے تعلیمی اداروں میں لرننگ انوائرنمنٹ ہے اور نہ ہی کسی ایسے استاد کو ان میں رہنے دیا جاتا ہے جو سماج میں ہونے والی ظلم و زیادتی کے خلاف بولے۔ لہٰذا اسی ویرانی میں ہم خوش ہیں ، ہمیں ایسے ہی رہنے دیا جائے۔ اس ویران زمین کو آباد کرنے کی غرض سے جو پہلا ڈینٹ ایوب خان نے لگایا تھا اس سے یہ دھرتی ابھی تک جان بھر نہ ہوسکی تھی کہ پھر افغان مہاجرین کا بوجھ اس پہ آ پڑا۔ اب مزید بوجھ یہ وطن برداشت نہیں کر سکتی۔ اصل میں یہ وہی بیانیہ ہے کہ یہ پورا ”ملک“ ایک قوم کی زمین ہے اور یہاں پہ زمین زیادہ ہے، لوگ کم ہیں تو اس ویرانی کو آباد کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ وہی منصوبہ ہے کہ فیڈرل گورنمنٹ نے ساحلی علاقوں کو وفاقی حکومت کے عملداری میں لانے کی کوشش کی ہے، تاکہ یہاں دوسرے صوبوں سے لوگ آ کر آباد ہو سکیں۔ اگر ایسا ممکن ہوتا تو یہ کب کا ہوچکا ہوتا۔
لیکن۔۔۔
ایک اور بات جو انہوں نے کی یہ کہ بلوچستان کی خوبصورتی یہی ہے کہ یہاں کے نوجوانوں کو کتابوں سے لگاؤ ہے۔ یہ تو کہا کہ یہاں لوگ کتابیں پڑھتے ہیں، لیکن یہ نہیں کہا کہ کتابیں پڑھنے کے بعد وہ غائب کیوں ہوجاتے ہیں۔ یا یہ کہ یہاں پہ کتابوں پر اتنی سنسرشپ کیوں عائد کی گئی ہے۔
ماہ رنگ بلوچ پہ بات کی مگر ان کا نام لینے سے گریز کیا۔ جب ایک دانشور میں کسی سیاسی لیڈر کا نام لینے کی ہمّت نہ ہو تو اس سے کیا اُمید کی جاسکتی ہے۔ بار بار ہماری محرومیوں کا رونا رو رہے تھے اور یہی کہہ رہے تھے بلوچستان کا مسئلہ انتہائی سادہ سا ہے جسے سادگی سے حل کیا جاسکتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر بلوچستان کا مسئلہ اِتنا سادہ ہوتا تو کب کا حل ہوچکا ہوتا۔ یہ مسئلہ قومی شناخت کا ہے، بلوچ قوم کی سرزمین کا ہے، نہ یہ وسائل کی جنگ ہے اور نہ ہی مراعات کی۔ اگر بات کرنی ہو تو کھل کے کریں، یہ قصّے ہم سن سن کے اب تھک چکے ہیں۔
آخری بات یہ کہ مظہر عباس نیشنل پارٹی سے کافی حد تک متاثر دکھائی دیئے، مگر اُن کو شاید پتہ نہیں کہ بلوچستان میں اب اس طرح کی پارٹیوں کی کیا حالت ہے۔
مختصراََ بات یہ ہے کہ ہمیں نہ کبھی پاکستانی دانشوروں سے، سیاستدانوں سے اور نہ ہی صحافیوں سے یہ اُمید رکھنی چاہیے کہ وہ ہمارے حق میں بولیں گے یا ہمارے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ ہمیں جو کچھ کرنا ہے خود کرنا ہے۔ اپنے معاملات کو سنجیدگی سے لینا ہے اور یہ قبول کرنا ہے کہ ہم جو بھی ہیں ، جیسے بھی ہیں، پسماندہ ہیں، جاہل ہیں، مگر اپنی شناخت اور اپنی زمین کے معاملے میں انتہائی حساس ہیں۔

No comments:
Post a Comment