دریا کے کنارے عورتوں کا ایک بڑا گروہ بیٹھ کے کپڑے دھو رہا تھا۔ کپڑے دھوتے وقت ان کے سروں پہ دو پٹّے نہیں تھے اور جب وہ ہلتے تھے تو ان کے سینے کے اُبھار اور بھرے کولہوں کی تھر تھراہٹ میں ایک عجیب سی کشش تھی۔ ہم جیسے ہی کشتی سے اُترے تو اس خوبصورت منظر نے ہمارا استقبال کیا۔ ٹیگور جی آگے آگے جا رہے تھے اور میں ان کے پیچھے ننگے پاؤں چلتے چلتے کنارے پہ بیٹھی عورتوں کو گھور رہا تھا۔ انسان بھی عجیب چیز ہے، وہ جہاں کہیں بھی ہو اپنی خوشی کا سامان پیدا کرتا ہے۔ میں ٹھہرا وہی حسن پرست۔ جہاں بھی نظریں گھماتا تو کسی خوبصورت اور معصوم چہرہ دیکھنے کی حسرت ہوتی۔ جب ٹیگور جی نے مجھے اتنے انہماک سے عورتوں کو گھورتے دیکھا تو وہ سمجھ گئے۔ کیونکہ انہیں میری کمزوریوں کا پہلے سے پتہ تھا۔
”ان نازک کلیوں نے کتنے کانٹوں سے زخم کھائے ہیں تمہیں پتہ ہے؟“ ٹیگور بولے۔ جب وہ بولتے تو میں خاموشی سے سنتا رہتا۔ کیونکہ وہ بیکار کی باتوں میں وقت ضائع نہیں کرتا اور بول رہا ہوتا تو مجھے لگتا کہ کوئی عظیم فلسفی بول رہا ہے جس کی زندگی کا بس ایک ہی مقصد ہے کہ انسان خوشحالی سے اپنی زندگی گزارے۔ ذات پات، علاقائیت، تعصب، صنف، مذہب، فرقہ اور ان تمام چیزوں سے بالاتر ہو کر جیے جو انسانیت کا خوبصورت چہرہ مسخ کر رہے ہیں۔ وہ انسان کو صرف انسان ہی سمجھتا ہے۔ کسی مذہبی، سیاسی یا صنفی تفریق کا قائل نہیں ہے۔
وہ اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے بولے، ”اُس عورت کو ذرا غور سے دیکھو جو اپنا کام ختم کر کے فارغ بیٹھی ہے اور دوسری عورتوں سے گپیں لڑا رہی ہے۔ اُس کے چہرے پہ تمہیں کیا نظر آتا ہے؟“
میں نے ایک لمحہ اُس عورت کی طرف دیکھا مگر میری نظریں ایسی عورتوں پہ کہاں ٹِکتی ہیں جن کی آنکھوں سے زندگی کی چمک غائب ہو، جن کے بالوں کی رنگت چاندی جیسی ہو، جن کے رُخساروں پہ ایسے کالے داغ پڑے ہوں جیسے لوہے کی کلہاڑی پہ لوہار کے ہتھوڑے کے نشان ہوں، جن کا حسن مدھم پڑ چکا ہو اور کسی پرانی خستہ عمارت کا منظر پیش کر رہا ہو۔ کیا ایک جنسی کھلونے کے علاوہ بھی عورت کا کوئی وجود ہے؟ ضرور ہو گا، کیونکہ دنیا کی آدھی آبادی عورتوں پہ مشتمل ہے اور یہی وہ ہستیاں ہیں جو عظیم بیٹوں کو جنم دیتی ہیں۔ یا کچھ اور بھی ہیں؟ فی الحال یہ سوچنے کے لئے میرے پاس وقت نہیں تھا۔ کیونکہ ایک خوبصورت سی نازک پری ننگے سر درختوں کی شاخوں پہ گیلے کپڑے سُکھا رہی تھی۔ جب اس نازک اندام حسینہ پہ میری نظر پڑی تو میں اُس عورت سمیت ٹیگور کو بھی بھول گیا اور تخیل میں اس کی بکھری زلفوں کو سنوارنے لگا۔
”کیا لگتا ہے تمہیں یہ عورت اتنا خستہ حال کیوں ہے؟ ٹیگور کے ان الفاظ سے میرے تخیل کی عمارت زمین بوس ہو گئی اور میں ذہنی طور پر ایک نئی کہانی سننے کو تیار ہو گیا۔
”یہ عورت پاربتی ہے جو بابو سندرلال کی بیوی ہے۔ اس نے زندگی کے تمام سرد و گرم دیکھے ہیں۔ اس کے لئے زندگی کا مقصد فقط دو وقت کی روٹی حاصل مرنا اور اپنے شوہر کی خدمت کرنا تھا۔ جب وہ بیمار پڑی تو موت کے منہ تک جا پہنچی مگر شوہر کی سرد مہری اور بے ڈھنگی تیمار دادی کے باوجود بھی وہ جان بر ہو گئی اور پھر سے تندرست ہو گئی۔ اب اگر اس کی زندگی میں کسی چیز کی کمی تھی تو وہ تھی اولاد۔ شوہر کی محبت کا تو خیر اسے کبھی تجربہ ہی نہیں ہوا تھا۔ مشرقی عورتوں میں شاید ہی کوئی خوش نصیب ہو جسے حقیقی محبت کرنے والا کوئی مرد مل جائے۔“
ٹیگور اپنی دھن میں بولتا جا رہا تھا اور ہم دریا کے کنارے گاؤں کی گلیوں سے گزر رہے تھے۔ یہاں جتنی بھی عورتوں کو میں نے دیکھا تقریباً سب کی سب بجھی ہوئی لگ رہی تھیں اور ان کی آنکھوں سے جینے کی خواہش گویا ختم ہو چکی تھی۔ جب میں نے سکول سے آتی چند بچّیوں کو دیکھا تو ان کے چہروں کی تازگی نے مجھے سوچنے پہ مجبور کیا کہ آخر وجہ کیا ہے کہ یہ نازک کلیاں جب مردوں کے گھر جاتی ہیں تو اتنی جلدی مرجھا جاتی ہیں۔ یا تو شادی کے ادارے میں کوئی خرابی ہے یا ہمارے مشرقی روایات میں کوئی کمی ہے جو ان نازک پھولوں کو اپنے دامن میں سمیٹنے سے قاصر ہے۔
ہم چلتے چلتے ایک چائے خانے کے سامنے پہنچ گئے۔ میں نے سوالیہ نظروں سے ٹیگور کو دیکھا تو وہ سمجھ گئے کہ راستے میں کوئی چائے خانہ ہو اور ہم وہاں بیٹھ کے چائے نہ پئیں یہ تو ہو ہی نہیں سکتا۔ اس لئے وہ میرے دل کی خواہش بھانپ گئے۔ وہ ایک بوسیدہ چارپائی پہ بیٹھ گئے اور چائے کے لئے بیرے کو آواز دی۔ چائے کی چسکیاں لیتے جب میں نے سگریٹ سلگائی تو پاس میں بیٹھے ایک شخص نے مجھ سے ایک سگریٹ مانگ لی۔ دنیا میں اگر کوئی متحد گروہ وجود رکھتا ہے تو وہ نشیوں کا ہے۔ اس لئے نہ ایسی چیزیں مانگنے والا شرماتا ہے اور نہ ہی دینے والے کو کوئی دقت ہوتی ہے۔ سگریٹ مانگنے والا ایک ادھیڑ عمر کا خوش باش دیہاتی افسر لگ رہا تھا۔ داڑھی شیو کی ہوئی تھی اور سر کے بال بس اتنے رہ گئے تھے کہ کوئی اسے گنج پن کا طعنہ نہیں دے سکتا تھا۔ سگریٹ سلگا کے وہ چائے کے پیسے دے کر چلا گیا۔
اس دوران ٹیگور جی اسے بڑی توجہ سے گھورتے رہے اور جب وہ چلا گیا تو میں نے پوچھا آپ اس بندے کو جانتے ہیں، اور یہ بندہ اس عمر میں اتنا خوش باش کیسے ہو سکتا ہے؟
”ہاں اس کی بیوی مر گئی ہے، اس لئے اتنا خوش ہے؟“
میں حیران رہ گیا اور پوچھ بیٹھا، ”بیوی کے مرنے سے کوئی خوش ہوتا ہے بھلا؟“
ٹیگور ہنس پڑے۔ ”جب بیوی گلے میں طوق ہو تو اس کے مرنے پہ خوشی تو ہوگی نا۔ وہی خاتون جو وہاں دریا کے کنارے بیٹھی تھی۔“
میں نے ان کی بات کاٹ دی، ”پاربتی؟“
”ہاں وہی۔ یہ پاربتی کے شوہر ہیں۔“
اب میری حیرانی کی انتہا نہ رہی کہ ایک زندہ عورت کو جسے ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ کہ آ رہے ہیں اور وہ کہہ رہا ہے کہ یہ عورت مر چکی ہے۔
”سندر لال کی جس بیوی کو آپ نے دیکھا میں اس کی بات نہیں کر رہا ہوں۔ پاربتی جب بیمار تھی تو اس کی بڑی خواہش تھی کہ وہ اپنے شوہر کے لئے کوئی عظیم قربانی دے۔ شوہر کو خوش رکھنے کے لئے ضروری تھا کہ وہ اسے کوئی بچہ دے سکتی، مگر پاربتی کے لئے یہ ناممکن تھا۔ اس لئے اس نے منّت سماجت کر کے ایک نوعمر لڑکی جانکی سے سندر کی شادی کروا دی۔ جانکی نے پاربتی کے شوہر کو تمام حقوق اور زیورات سمیت چھین لیا۔ سندر دوسری بیوی کے ناز و نخرے اٹھاتے قرضوں کے بوجھ تلے ایسے ڈوب گئے کہ اپنی نوکری اور پشتینی گھربار سب کچھ گنوا بیٹھے۔ آخر میں اس کے پاس بس دو بیویاں رہ گئیں جن کو پالنے کے لئے نہ گھر رہا نہ پیسے۔ جانکی اس گٹھن زدہ ماحول میں خود کو ایڈجسٹ نہ کر پائی اور سندر کا بچّہ پیٹ میں لئے اس دنیا سے چل بسی۔ کتنی عجیب ہے نہ یہ دنیا!“
یہاں تک تو مجھے بات سمجھ آئی کہ سندر کی چھوٹی بیوی مر چکی تھی مگر چھوٹی بیویاں تو سب کو پیاری ہوتی ہیں پھر یہ بندہ اس کی موت کو لئے اتنا خوش کیوں ہے؟ میں نے بیرے کو دوسری چائے کا آرڈر دے دیا اور ٹیگور راہگیروں کو تکنے می مصروف تھے۔ جہاں ایک گدھا، گدھا گاڑی پہ لدھی بوریوں سمیت بیچ سڑک پہ لیٹا تھا۔ مالک گدھے پہ ڈنڈے برساتا رہا مگر گدھا ہی تھا کہ اپنی جگہ سے ہل نہیں رہا تھا۔
”ہم مرد بالکل اس گدھے کے مالک کی طرح ہیں۔ ہم کبھی بھی اپنے مسائل اور وسائل کے درمیان تناسب برقرار نہیں رکھ پاتے۔ پھر ہمارا وہی حال ہو گا جو سندر کا ہوا۔ دنیا کے تمام مردوں کی حالت اسی گدھے کے مالک جیسی ہے۔ کیونکہ وہ اپنی بساط سے بڑھ کر بوجھ اُٹھاتے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ ایسے ہی سڑک پہ آ کر دوسروں کے لئے تماشے بن جاتے ہیں۔“
اب میں سمجھ گیا کہ سندر اپنی دوسری بیوی کی موت سے اتنا پرسکون، مطمئن اور خوش کیوں ہے۔
ہم چائے خانے سے اُٹھ کر ریلوے سٹیشن کی طرف روانہ ہو گئے اور وہی عورتوں کا گروہ سر پہ بڑی تالیوں میں کپڑے لئے ہمارے پیچھے آ رہا تھا، مگر پاربتی ان کے ساتھ نہیں تھی۔

No comments:
Post a Comment